7 فروری 2026 - 11:31
ایران فتح پائے گا، فلسطینی مصنف ایہاب زکی

ایران ایک طاقتور اور مضبوط ملک ہے، گتے کا گھر نہیں کہ امریکہ اسے آسانی سے آگ لگا دے، جیسے کہ وہ ہمیشہ کمزور ممالک کو نشانہ بناتا ہے۔ لہٰذا امریکہ کبھی بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف پورے پیمانے کی جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، غزہ سے فلسطینی مصنف ایہاب زکی نے لکھا:

امریکہ کسی بھی ملک پر حملہ کرنے سے پہلے اس ملک کے نظام حکومت پر بدعنوانی، فرسودگی رو بہ زوال اور شکست و ریخت سے دوچار ہونے کا الزام لگاتا ہے۔ یہی کام اس نے 1953 میں ایران میں محمد مصدق کی حکومت کے ساتھ کیا یا 1970 میں چِلی کے صدر سالوادور آلینڈے کی حکومت کے ساتھ کیا ـ جب اس نے بغاوت کروانے سے پہلے ان پر بدعنوانی اور زوال پذیری کا الزام لگایا۔ لہٰذا امریکہ نے 2002، 2006، 2018، 2022 اور 2025 میں ہر بار یہ دعویٰ کیا کہ ایران کا نظام شکست و ریخت کے قریب ہے؛ لیکن نہ صرف ایران کا اسلامی نظام گرا نہیں بلکہ یہ زیادہ مربوط اور مضبوط ہؤا اور گرانے کی ہر امریکی کوشش سے اس نے نیا تجربہ حاصل کیا اور اس کی طاقت و استحکام میں اضافہ ہؤا۔

ایران کے نظام کی مضبوطی کا عروج 12 روزہ جنگ میں عیاں ہؤا اور واشنگٹن اور تل ابیب کے حکام کے دعوؤں کے برعکس، سب پر یہ واضح ہؤا کہ "یہ امریکی حکومت ہے جو بوسیدہ ہے اور انہدام کے قریب ہے۔" لہٰذا ان دنوں "خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ" "طاقت اور مضبوطی کی نہیں بلکہ خوف اور کمزوری کی نشانی ہے اس لئے کہ "وائٹ ہاؤس نے ایران کی جوابی حملے کا خطرہ روکنے کے لئے" اپنی تمام قوتیں متحرک کر دی ہیں۔ اگر امریکہ واقعی طاقتور ہوتا تو وہ اتنی فوج خطے میں نہ بھیجتا۔

اس  اثناء میں امام خامنہ ای [حفظہ اللہ] کے اس بیان نے امریکہ کے خوف میں مزید اضافہ کیا کہ "ایران پر حملہ ہؤا تو اگلی جنگ علاقائی ہوگی؛" اور ثابت کیا کہ "صہیونی ریاست ـ جس کو ہمیشہ امریکی حمایت حاصل ہے ـ اب وائٹ ہاؤس کا اتحادی نہیں رہا بلکہ واشنگٹن پر بوجھ" بنا ہؤا ہے۔

ایران نے 12 روزہ جنگ میں ثابت کیا کہ وہ اس منحوس ریاست کو میزائلوں کی بارش سے کر سکتا ہے اور امریکہ اب نہ اس کی حفاظت کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنی؛ اور یہ ایران نہیں ہے جو انہدام کے قریب ہے بلکہ "امریکہ اور صہیونی ریاست انہدام کے قریب ہیں۔"

اس بار ایران نہیں، بلکہ امریکہ، ایک نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گذر رہا ہے۔ "یک قطبی" (Uni-polar) طاقت کے طور پر، اس کی تقدیر خطرے میں ہے؛ اگر ایران پر حملہ کرنے سے گریز کرتا ہے تو اسے اس صورت حال سے پیدا ہونے والے طاقت کا توازنِ تسلیم کرنا پڑے گا اور ایران دنیا بھر میں، ایک علاقائی طاقت کے طور پر، ابھر کر سامنے آئے گا اور امریکہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ اثر کھو ڈالے گا اور شکست کھا کر خطے سے پسپائی اختیار کرے گا۔ لیکن اگر وہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو "امریکی یک قطبی نظام" کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا کیونکہ ایران جنگ کو طویل کرکے دشمن کو رگید کر ہرانے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایسی جنگ نتیجے کو اس ملک کے حق میں بدل دے گی جو زیادہ دیر تک مزاحمت کرے گا۔ اس قسم کی جنگ میں ـ جس میں قوموں اور عوام کی تقدیر داؤ پر لگی ہو، ـ صرف ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہی واحد حل ہے جیسا کہ غزہ کے لوگوں نے دنیا کو ثابت کرکے دکھایا۔

گوکہ غزہ کے پاس ایران کے مقابلے میں نہ تو کوئی دفاعی صلاحیت ہے اور نہ ہی جارحانہ صلاحیت، لیکن ایران کے پاس طاقت کے تمام اجزاء موجود ہیں: مختلف النوع روایتی اور ہائپرسونک، بیلسٹک اور کروز میزائل،  ڈرونز، بحری بیڑے، آبنائے ہرمز، اور سائبر صلاحیتیں، جن کے ذریعے وہ دشمن کو کچل کر رکھ دے گا۔

یہ اس وقت ہے جب ٹرمپ جو آسان ڈرامائی فتوحات کی تلاش میں ہیں، ـ جیسا کہ وینزویلا میں ہؤا، لیکن "جب انہیں اس حقیقت کا سامنا ہؤا کہ ایران وینزویلا نہیں ہے" "تو حیران رہ گیا۔"

لہٰذا، وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ "ہم نے وینزویلا سے زیادہ ایران کے ارد گرد فوجیں متحرک کر دی ہیں"؛ گویا وہ "اپنے آپ کو تسلی دینا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی، ایران جیسے طاقتور ملک سے لڑے بغیر، اس پر آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔"

آخر کار، ایران فتح پائے گا، خواہ جنگ میں ہو یا امن میں، لیکن ایران کے ساتھ سفارتی حل ٹرمپ کے لئے بہتر ہوگا، کیونکہ یہ امریکہ کو ایک حقیقی جنگ میں حقیقی شکست سے دور رکھے گا اور زوال پذیر امریکی سلطنت کو زیادہ وقت دے گا تاکہ وہ یک قطبیت کے بعد کی دنیا میں اپنے معاملات کو منظم کر سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha